حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حافظینِ نہج البلاغہ کے اعزاز میں منعقدہ اس تقریب میں ملکی اور صوبائی سطح کے ذمہ داران، مقامی حکام، قرآنی اور ثقافتی کارکنان شریک ہوئے جبکہ وزیرِ ثقافت و ارشاد اسلامی، مجلسِ شورای اسلامی کے اسپیکر اور مدیرِ حوزہ علمیہ کے پیغامات بھی قرأت کیے گئے جن میں اس طرح کی علمی اور دینی سرگرمیوں کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
اس پروگرام کا مقصد مؤسسہ امیرالمومنینؑ کاشان کی جدید ادبی اور قرآنی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں کاوشوں کو سراہنا اور نہج البلاغہ کے حفاظ کو خراج تحسین پیش کرنا تھا۔
تقریب کے موقع پر 'امرلی' کارڈ گیم، مرحوم ایکنا نامہ نگار حجت اللہ پیران کی نہج البلاغہ کی چالیس حکایتوں پر مبنی کتاب "اول شخص خوشبخت" اور نہج البلاغہ سے متعلق تعارفی دستاویز بھی پیش کی گئی۔
مقررین نے کہا: نہج البلاغہ کا حافظ ہونا صرف ایک علمی کامیابی نہیں بلکہ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے افکار، اخلاق اور طرزِ حیات کو سمجھنے اور معاشرے میں ان کی ترویج کا مؤثر ذریعہ بھی ہے۔
کاشان کے 58 نہج البلاغہ حافظوں کی اس تقریب میں نہج البلاغہ ہاؤسز کے تین معزز اساتذہ، "عید فاطمیہ تا عید علوی" مقابلے کے فائزین، پانچ، دس، پندرہ، تیس پارے اور حفظِ کامل قرآن کے حفاظ کے ساتھ ساتھ نہج البلاغہ کی 50 اور 140 حکمتوں کے حافظوں کو بھی اعزاز سے نوازا گیا۔
قابل ذکر ہے کہ مؤسسہ امیرالمومنینؑ کاشان نے سن 2003ء سے اب تک اپنے شب روزہ قرآن و نہج البلاغہ اسپیشل اسکولز میں ایران، تاجکستان، پاکستان، انڈیا، انڈونیشیا اور عراق سمیت مختلف ممالک کے 58 مکمل نہج البلاغہ کے حفاظ، 30 صحیفہ سجادیہ کے حافظین اور 2 ہزار سے زائد قرآن کریم کے حافظ تیار کیے ہیں جن میں سے 15 افراد ایسے ہیں جو قرآن مجید، نہج البلاغہ اور صحیفہ سجادیہ تینوں کے مکمل حافظ ہیں۔









آپ کا تبصرہ